نئی دہلی، 18؍اپریل (ایس او نیوز؍ایجنسی) دہلی کے جہانگیر پوری میں سنیچر کو شوبھا یاترا کے دوران اشتعال انگیز نعرے بازی اور مسجد پر بھگوا پرچم لہرانے کی مبینہ کوشش کی وجہ سے پھوٹ پڑنے والے فساد کی جانچ کیلئے دہلی پولیس نے اتوار کو جانچ کیلئے10 تفتیشی ٹیمیں تشکیل دے کر جانچ شروع کردی ہے۔ اتوار کو بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کرتے ہوئے14افراد کو حراست میں بھی لیاگیاہے۔ مگر دہلی پولیس کی اس کارروائی کی وجہ سے اس کی غیر جانبداری پر ایک بار پھر سوال اٹھنےلگےہیں کیونکہ جن14 افراد کو گرفتار کیاگیا ہے وہ سبھی مسلمان ہیں جبکہ شوبھا یاترا کے دوران ’’بھارت میں رہنا ہے تو رام رام کہنا ہوگا‘‘ جیسے اشتعال انگیز نعرے لگانے، تلواریں لہرانے اور مسجد میں گھسنے اور بھگوا لہرانے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دیگر ملزمین کی شناخت کی جارہی ہے۔ جن افراد کو گرفتار کیا گیاہے وہ زاہد (۲۲؍سال)ـ، انصار (۳۵؍ سال)، شہزاد (۳۳؍سال)، مختار علی( ۲۸؍ سال)، محمد علی (۲۲؍سال)، عامر (۲۲؍سال)، اشہر (۲۶؍ سال)، نور عالم (۲۸؍سال)، محمد اسلم عرف کھودو (۲۲؍ سال)، ذاکر (۲۲؍سال)، اکرم (۲۲؍سال)، امتیاز (۲۹؍سال)، محمد علی عرف جسیم الدین (۲۷؍ سال) اور آہر ولد حنیف خان (۳۵؍سال) ہیں۔
دہلی پولیس پر اس بات کیلئے تنقیدیں ہورہی ہیں کہ اس نے شوبھا یاترا کے دوران تلواریں اور پستول لہرانے نیز اشتعال انگیز نعرلے لگانے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جبکہ ویڈیو میں وہ صاف نظر آرہے ہیں۔ دی ہندو اور انڈین ایکسپریس جیسے اخبارات سے وابستہ رہ چکیں صحافی ہیمانی بھنڈاری نےجہانگیر پوری کے سی بلاک میں واقع مسجد جس کے قریب فساد ہوا، کے پاس الیکٹرک کی دکان چلانے والے ساجد سیفی سے ہونےو الی اپنی گفتگو شیئر کی ہے۔ سیفی نے دعویٰ کیا کہ شوبھا یاترا کے کچھ شرکاء نے مسجد میں گھسنے اور بھگوا جھنڈا لہرانے کی کوشش کی تو ٹکراؤ ہوگیا۔ دوسری طرف جلوس میں شامل ای رکشہ چلانے و الے گوری شنکر کا الزام ہے کہ پہلے مسجد کے اوپر سے جلوس پر پتھراؤ ہوا۔ اس بیچ وسیم قریشی نامی شخص نے اس پورے واقعہ کا ویڈیو شیئر کرتے ہوئے نشاندہی کی ہے کہ شوبھا یاترا میں شامل افراد کے ہاتھوں میں تلواریں اور پستول تھی جسے وہ لہرا رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ’’یہاں ہندو اور مسلمان مل جل کر رہتے ہیں، یہ سب باہر کے لوگ تھے۔‘‘ اس فساد میں ۹؍ افراد زخمی ہوئے جن میں ۸؍ پولیس اہلکار شامل ہیں۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ فائرنگ کرنے والے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ تلاشی کے دوران اس کے پاس سے تشدد میں استعمال ہونے والا ایک پستول برآمد ہوا ہے۔ ملزم کی شناخت اسلم کے طور پر ہوئی ہے۔
حالات کو قابو میں رکھنے کیلئے جہانگیر پوری کے متاثرہ علاقے میں مقامی پولیس اہلکاروں کے علاوہ مرکزی نیم فوجی دستوں کو تعینات کیا گیا ہے۔ پولیس کمشنر راکیش استھانہ نے عوام سے افواہوں پر دھیان نہ دینے کی اپیل کی ہے۔ اس کے ساتھ مقامی سطح پر ڈی سی پی کی قیادت میں امن کمیٹی کی میٹنگ ہوئی جس میں حالات پر قابو پانے کیلئے تعاون پر اتفاق ہوا مگر عین میٹنگ کے خاتمے پر آدرش نگر سے بی جےپی کی کونسلر گریما گپتا نے شرانگیزی کرتے ہوئے فساد کیلئے’’بنگلہ دیشی مسلمانوں‘‘ کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔